MOJ E SUKHAN

چھپ گیا سورج یہ کہہ کر شام سے

غزل

چھپ گیا سورج یہ کہہ کر شام سے
لے سبق دنیا مرے انجام سے

روح کو ہم نے ہزاروں دکھ دئے
نفس کو رکھا بڑے آرام سے

ایک بازیچہ سمجھ کر اہل دل
کھیلتے ہیں گردش ایام سے

سوچئے ہر زاویے سے دہر میں
کیسے گزرے زندگی آرام سے

کر دیا ساقی نے ساغر چور چور
چھین کر اک رند تشنہ کام سے

کون در پر رہ گیا دم توڑ کر
دیکھتے تو تم اتر کر بام سے

ہو گیا برہم نظام میکدہ
ایک آواز شکست جام سے

آخرش فرط مصائب پر جلیؔ
روتے روتے سو گیا آرام سے

جلی امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم