MOJ E SUKHAN

چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویا

غزل

چھیڑ کر تذکرۂ دور جوانی رویا
رات یاروں کو سنا کر میں کہانی رویا

ذکر تھا کوچہ و بازار کے ہنگاموں کا
جانے کیا سوچ کے وہ یوسف ثانی رویا

غیرت عشق نے کیا کیا نہ بہائے آنسو
سن کے باتیں تری غیروں کی زبانی رویا

جب بھی دیکھی ہے کسی چہرے پہ اک تازہ بہار
دیکھ کر میں تری تصویر پرانی رویا

چشم ارباب وفا ہے جو لہو روتی ہے
غیر پھر غیر ہے رویا بھی تو پانی رویا

تیری مہکی ہوئی سانسوں کی لویں یاد آئیں
آج تو دیکھ کے میں صبح سہانی رویا

اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلا
دیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا

جعفر طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم