MOJ E SUKHAN

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے
شکلیں بدل بدل کر ڈرانے لگے مجھے

شوقِ جمال طور پہ بیٹھا رہا مرا
کیونکر تماش بین اٹھانے لگے مجھے

شیشے کے ٹوٹنے کی صدا تو نہیں سنی
ٹوٹا جو دل مرا تو ہنسانے لگے مجھے

آنکھوں کو آنسوؤں کی ضرورت نہیں رہی
ان کے وصال و ہجر بہانے لگے مجھے

تحریر میں سمو نہ سکے گا وہ گل بدن
سوچوں کے زاویوں سے بنانے لگے مجھے

لوگوں کو روشنی کی ضرورت جہاں پڑی
مثل ِ چراغِ طاق جلانے لگے مجھے

خلقت کے راستوں کی رکاوٹ نہیں ہوں گل
سنگ کی طرح سے کیوں یہ ہٹانے لگے مجھے

گل نسرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم