MOJ E SUKHAN

چہرے کو بحال کر رہا ہوں

چہرے کو بحال کر رہا ہوں
دنیا کا خیال کر رہا ہوں

اک کار محال کر رہا ہوں
زندہ ہوں کمال کر رہا ہوں

وہ غم جو ابھی ملے نہیں ہیں
میں ان کا ملال کر رہا ہوں

اشعار بھی دعوت عمل ہیں
تقلید بلال کر رہا ہوں

تصویر کو آئینہ بنا کر
تشریح جمال کر رہا ہوں

چہرے پہ جواب چاہتا ہوں
آنکھوں سے سوال کر رہا ہوں

کچھ بھی نہیں دسترس میں سرشارؔ
کیوں فکر مآل کر رہا ہوں

سرشار صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم