MOJ E SUKHAN

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے

غزل

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے
دنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے

شمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل
ایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے

گر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں
اے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے

آتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں
یعنی مجھے تربت میں بھی آرام نہ ہووے

جی دیتا ہے بوسہ کی توقع پہ فغاںؔ تو
ٹک دیکھ لے سودا یہ ترا خام نہ ہووے

اشرف علی فغاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم