MOJ E SUKHAN

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں
مادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں

پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھر
راستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں

گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہے
میرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدود
کھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں

ان سے محفل میں ملاقات بھی کم تھی نہ مگر
اف وہ آداب جو برتے گئے تنہائی میں

یوں لگا جیسے کہ بل کھا کے دھنک ٹوٹ گئی
اس نے وقفہ جو لیا ناز سے انگڑائی میں

کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم
کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

رئیس امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم