MOJ E SUKHAN

ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی

غزل

ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی
ہم نے تو جرم محبت کی سزا مانگی تھی

کیا خبر تھی کہ اندھیروں کو بھی شرما دیں گے
جن اجالوں کے لئے ہم نے دعا مانگی تھی

عشق میں راز بقا کیا ہے خبر تھی ہم کو
ہم نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی فنا مانگی تھی

مانگنے والوں میں شامل تو تھے ہم بھی لیکن
ہم نے اس در پہ فقط طرز نوا مانگی تھی

بن گئی حسن طلب بھی تو معمہ اے دلؔ
درد مانگا تھا وہ سمجھے کہ دوا مانگی تھی

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم