MOJ E SUKHAN

کئی عکس ماہ تمام تھے مجھے کھا گئے

کئی عکس ماہ تمام تھے مجھے کھا گئے

وہ جو خواب سے لب بام تھے مجھے کھا گئے

۔

کوئی راکھ تھی جو سلگ رہی تھی ادھر ادھر

وہ جو رنگ سایۂ شام تھے مجھے کھا گئے

۔

وہ جو آنسوؤں کی زبان تھی مجھے پی گئی

وہ جو بے بسی کے کلام تھے مجھے کھا گئے

۔

وہ جو منزلوں کی دعائیں تھیں نہیں لے گئیں

وہ جو راستے کے سلام تھے مجھے کھا گئے

۔

وہ جو بکھرے بکھرے سے لوگ تھے مرے روگ تھے

وہ جو متصل در و بام تھے مجھے کھا گئے

۔

کبھی یہ غلط کبھی وہ غلط کبھی سب غلط

یہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے

لیاقت علی عاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم