MOJ E SUKHAN

کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا

غزل

کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا
میرے دریائے تمنا کا کنارا ہوتا

مان رکھا نہ گیا تجھ سے مری الفت کا
لے کے دل تُو نے مرے منہ پہ نہ مارا ہوتا

زندگی اپنی محبت میں حسیں ہو جاتی
عمر بھر کے لئے اک شخص ہمارا ہوتا

میرے آنچل نے ہوا کو بھی کیا ہے مہیمیز
کاش زلفوں کو کبھی اپنی سنوارا ہوتا

اجنبی بن کے نہ شہروں میں یوں پھرتے نقویؔ
دل سے اک شخص اگر آج ہمارا ہوتا

معظمہ نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم