MOJ E SUKHAN

کافی کے ایک کپ کے بہانے کبھی کبھی

کافی کے ایک کپ کے بہانے کبھی کبھی
۔ آیا کرو گے مجھ کومنانے کبھی کبھی

ہر بار چھوٹتی نہیں رخصت پہ گاڑیاں
آتے ہیں ہاتھ ایسے خزانے کبھی کبھی۔

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم