MOJ E SUKHAN

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئے

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئے
کون بیٹھا ہے ترے عشق میں مرنے کے لئے

رات گزرے ہوئے خوابوں کی ردا اوڑھے تھی
صبح تعبیر کے چلمن پہ بکھرنے کے لئے

ایستادہ تھے ستارے تری دہلیز کے ساتھ
چاند بے چپن تھا آنگن میں اترنے کے لئے

دست فن کار کی فن کاری کا عالم یہ ہو
نقش بے چپن ہو پتھر پہ ابھرنے کے لئے

کوئی منزل تو ملے آبلہ پائی کے طفیل
کوئی صورت تو بنے چہرہ سنورنے کے لئے

اس ہجوم کس و نا کس کو بھی جانا ہے کہیں
راستہ دیجئے اس کو بھی گزرنے کے لئے

ظہور الاسلام جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم