MOJ E SUKHAN

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی

غزل

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی
تینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھی

یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں
سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی

دو دو شکلیں دکھتی ہیں اس بہکے سے آئینے میں
میرے ساتھ چلا آیا ہے آپ کا اک سودائی بھی

کتنی جلدی میلی کرتا ہے پوشاکیں روز فلک
صبح ہی رات اتاری تھی اور شام کو شب پہنائی بھی

خاموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خاموشی تھی
ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی

کل ساحل پر لیٹے لیٹے کتنی ساری باتیں کیں
آپ کا ہنکارا نہ آیا چاند نے بات کرائی بھی

گلزار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم