MOJ E SUKHAN

کبھی بت انا کے گرا کر تو دیکھو

کبھی بت انا کے گرا کر تو دیکھو
ہیں اپنے سبھی ان میں آکر تو دیکھو

گنوانے کو دل کے سوا اور کیا ہے
چلو پھر اسے بھی گنوا کر تو دیکھو

منانے کا اپنا الگ ہی مزہ ہے
جو روٹھا ہے اس کو منا کر تو دیکھو

ہر اک خود کرے احتساب آپ اپنا
نئی رسم دنیا میں لا کر تو دیکھو

نظر آئے گا سب کو اپنا ہی چہرہ
حقیقت سے پردہ اٹھا کر تو دیکھو

ہے سب سے الگ ہی یہ رنگ حنائی
ہتھیلی پہ مہندی رچا کر تو دیکھو

جسے مانتی ہو صبیحہ حقیقت
اسے ضبطِ تحریر میں لا کرتو دیکھو

صبیحہ خان صبیحہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم