MOJ E SUKHAN

کبھی بہت ہے کبھی دھیان تیرا کچھ کم ہے

کبھی بہت ہے کبھی دھیان تیرا کچھ کم ہے
کبھی ہوا ہے کبھی آندھیوں کا موسم ہے

ابھی نہ توڑا گیا مجھ سے قید ہستی کو
ابھی شراب جنوں کا نشہ بھی مدھم ہے

کہ جیسے ساتھ ترے زندگی گزرتی ہو
ترا خیال مرے ساتھ ایسے پیہم ہے

تمام فکر زمان و مکاں سے چھوٹ گئی
سیاہ کارئ دل مجھ کو ایسا مرہم ہے

میں خود مسافر دل ہوں اسے نہ روکوں گی
وہ خود ٹھہر نہ سکے گا جو قیدیٔ غم ہے

وہ شوق تیز روی ہے کہ دیکھتا ہے جہاں
زمیں پہ آگ لگی آسمان برہم ہے

تنویر انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم