MOJ E SUKHAN

کبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہے

کبھی سحر سے کبھی تیرگی سے شکوہ ہے
کبھی خدا سے کبھی آدمی سے شکوہ ہے

جو اپنی ذات سے خود آشنا نہیں اس کو
بس ایک اپنے سوا ہر کسی سے شکوہ ہے

مجازی عشق کسی کو سکوں نہیں دیتا
جسے بھی دیکھو اُسے دل لگی سے شکوہ ہے

وفا اس عہدِ جفا میں ہے اک فریبِ نظر
بساطِ وقت کی جادوگری سے شکوہ ہے

کریں جو کُھل کے عداوت، گلہ نہیں ان سے
منافقت سے بھری دوستی سے شکوہ ہے

سکونِ دل تو ملا ہے نشاطِ زیست نہیں
قلندروں کا یہی آگہی سے شکوہ ہے

کوئی عمل نہیں ایسا خدا کو پیش کروں
صؔبا مجھے مری اس بندگی سے شکوہ ہے

صبا عالم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم