MOJ E SUKHAN

کبھی سنتے تھے اوروں کی زبانی

کبھی سنتے تھے اوروں کی زبانی
مگر اب بن رہے ہیں خود کہانی

قلم سے دوستی قائم ہے اب تک
وگرنہ رائگاں تھی زندگانی ۔۔۔

نہ ہو شکوہ کوئی تیرہ شبی کا
اگر مل جائیں کچھ صبحیں سہانی

رہا صحرا وہی پیاسا کا پیاسا
سمندر لے گیا ہے سارا پانی

کسی اک دل میں تو رہنا ہے آخر
نہیں انساں کو زیبا لا مکانی

ملی تھی جو مجھے شوقِ جنوں سے
خرد نے چھین لی وہ خوش گمانی

تعلق ٹوٹ سکتے ہیں پرانے
جو در آئے دلوں میں بد گمانی

ضیاء لڑنا ہے ہم کو تیرگی سے
لیئے لفظوں میں اپنے ضو فشانی

ضیاء زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم