MOJ E SUKHAN

کبھی ملے تھے یہ اک واقع ہے خواب نہیں

کبھی ملے تھے یہ اک واقع ہے خواب نہیں
فراق پوچھتا ہے وصل کیا سراب نہیں

اگرچہ روشنیاں اپنے بس کی بات نہیں
مگر وہ چہرہ بھی مانندِ آفتاب نہیں

بلا کا حسن تھا اس کے وجود میں سچ ہے
مری سپردگی جاں کا بھی جواب نہیں

ہمی سے سر نہ ہوئی منزلِ وفا گرچہ
سفر طویل نہیں راستہ خراب نہیں

ڈاکٹر اقبال پیرزادہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم