MOJ E SUKHAN

کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہے

غزل

کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہے
بس اک لمحہ آتا ہے ٹل جاتا ہے

تجھ سے مجھ کو بیر سہی پر کبھی کبھی
دنیا تیرا جادو بھی چل جاتا ہے

جان لیا ہے لیکن ماننا باقی ہے
تو سایہ ہے اور سایہ ڈھل جاتا ہے

اک دن میں اشکوں میں یوں گھل جاؤں گا
جیسے کاغذ بارش میں گل جاتا ہے

کس کے قبضے میں ہے خزانہ اجالوں کا
کون زمیں پر تاریکی مل جاتا ہے

اس کو تیری یاد کہوں یا اپنی یاد
شام سے پہلے ایک دیا جل جاتا ہے

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم