MOJ E SUKHAN

کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں

غزل

کب خموشی کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں
تھا عیاں وہ راز دل جس کو نہاں سمجھا تھا میں

سن رہا ہوں اپنی خاموشی کا چرچا کو بہ کو
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں

عارضی سا عکس تھا اک التفات دوست کا
جس کو نادانی سے عیش جاوداں سمجھا تھا میں

تم نے آنکھیں پھیر لیں مجھ سے تو یہ مجھ پر کھلا
خار زار زندگی کو گلستاں سمجھا تھا میں

وہ بھی نکلے برق و باد و باغباں کی ملکیت
چار تنکے جن کو اپنا آشیاں سمجھا تھا میں

کر سکیں درشنؔ نہ وہ بھی عرض حال آرزو
جن نگاہوں کو محبت کی زباں سمجھا تھا میں

درشن سنگھ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم