MOJ E SUKHAN

کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہے

کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہے
یہ عقدۂ اسرار ازل کس پہ کھلا ہے

کس بھیس کوئی موج ہوا ساتھ لگا لے
کس دیس نکل جائے یہ دل کس کو پتا ہے

اک ہاتھ کی دوری پہ ہیں سب چاند ستارے
یہ عرشۂ جاں کس دم دیگر کی عطا ہے

آہنگ شب و روز کے نیرنگ سے آگے
دل ایک گل خواب کی خوشبو میں بسا ہے

یہ شہر طلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے
پہلو میں کھڑا شخص فرشتہ کہ بلا ہے

ہر سوچ ہے اک گنبد احساس میں گرداں
اور گنبد احساس میں در حرف دعا ہے

یہ دید تو روداد حجابات ہے عالؔی
وہ ماہ مکمل نہ گھٹا ہے نہ بڑھا ہے

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم