MOJ E SUKHAN

کتابیں میری ساری جل رہی تھیں خواب کیسا تھا

غزل

کتابیں میری ساری جل رہی تھیں خواب کیسا تھا
سوا نیزے پہ سورج تھا تو پھر مہتاب کیسا تھا

سواد شب ردائے تیرگی کی وسعتیں اوڑھے
بھٹکتا پھر رہا تھا کرمک شب تاب کیسا تھا

شناور میں بھی تھا بھوکے نہنگوں کے سمندر میں
مرے اطراف لیکن خون کا گرداب کیسا تھا

میں اپنی زندگی کو لمحہ لمحہ کھوج بھی لیتا
مگر وہ قطرہ قطرہ پیاس کا زہراب کیسا تھا

وہ نس نس میں سما کر بھی گریزاں مجھ سے کیوں کر تھا
وہ میرا ہو گیا تھا اور پھر نایاب کیسا تھا

متین اقبالؔ اتنی بات تم نے بھی نہیں سمجھی
محبت کا وہ دریا اس قدر پایاب کیسا تھا

اقبال متین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم