MOJ E SUKHAN

کتنا عجیب شب کا یہ منظر لگا مجھے

غزل

کتنا عجیب شب کا یہ منظر لگا مجھے
تاروں کی صف میں چاند سخنور لگا مجھے

سوچا تو ہم سفر مجھے تنہائیاں ملیں
دیکھا تو آسمان بھی سر پر لگا مجھے

تجھ سے بچھڑ کے یہ مری آنکھوں کو کیا ہوا
جس پر نظر پڑی ترا پیکر لگا مجھے

یہ کس نے آ کے شہر کا نقشہ بدل دیا
دیکھا ہے جس کسی کو وہ بے گھر لگا مجھے

سمٹا ترا خیال تو دل میں سما گیا
پھیلا تو اس قدر کہ سمندر لگا مجھے

بسملؔ وہ میری جان کا دشمن تو تھا مگر
کیوں پوری کائنات سے بہتر لگا مجھے

بسمل آغائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم