MOJ E SUKHAN

کتنے نشتر لگائے گی دنیا

کتنے نشتر لگائے گی دنیا
ایک دن ہار جائے گی دنیا

خود کو پتھر بنا چکی ہوں میں
مجھ سا بےحس نہ پائے گی دنیا

درد کا گیت ہوں میں وہ جس کو
عمر بھر گنگنائے گی دنیا

زخم بھی دے گی اور مرہم بھی
اپنے ہاتھوں لگائے گی دنیا

کیا کسی سے ملوں محبت سے
پھر فسانے بنائے گی دنیا

مارے گی زہر دے کے پہلے مجھے
پھر قصیدے سنائے گی دنیا

روئے گی چند روز تو روبی
اور پھر بھول جائے گی دنیا

روبینہ ممتاز روبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم