MOJ E SUKHAN

کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے

غزل

کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے
کچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی جھڑ گئے

کچھ آندھیاں بھی اپنی معاون سفر میں تھیں
تھک کر پڑاؤ ڈالا تو خیمے اکھڑ گئے

اب کے مری شکست میں ان کا بھی ہاتھ ہے
وہ تیر جو کمان کے پنجے میں گڑ گئے

سلجھی تھیں گتھیاں مری دانست میں مگر
حاصل یہ ہے کہ زخموں کے ٹانکے اکھڑ گئے

نروان کیا بس اب تو اماں کی تلاش ہے
تہذیب پھیلنے لگی جنگل سکڑ گئے

اس بند گھر میں کیسے کہوں کیا طلسم ہے
کھولے تھے جتنے قفل وہ ہونٹوں پہ پڑ گئے

بے سلطنت ہوئی ہیں کئی اونچی گردنیں
باہر سروں کے دست تسلط سے دھڑ گئے

آنس معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم