MOJ E SUKHAN

کرتا نہیں کسی سے کبھی بات آگ پر

غزل 

کرتا نہیں کسی سے کبھی بات آگ پر
جس شخص نے گزاری ہر اِک رات آگ پر

عشّاق کے نصیب میں جلنا ہے کِس لیے
لکھی ہیں کِس نے ہجر کی آیات آگ پر

اُس کربِ انتظار کا عالم نہ پوچھیے
جس میں گزرتے ہیں سبھی لمحات آگ پر

اُس کے بدن کو چُھو کے کچھ ایسا لگا مجھے
جیسے کہ پڑ گیا ہو مِرا ہاتھ آگ پر

دو چار دن کی بات ہو تو صبر بھی کروں
کیسے گزاروں عمر کی ہر رات آگ پر

تم کو محبتوں کا یقیں کیسے آئے گا
انگارے رکھ لوں ہاتھ پہ، یا ہاتھ آگ پر

رونے سے دل کی آگ بھڑکتی ہے اور بھی
شاعرؔ نے کر کے دیکھ لی برسات آگ پر

شاعر علی شاعرؔ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم