غزل
کرتا ہوں اب کے بار میں توبہ سے توبہ یار
کس واسطے کہ ٹوٹی ہے توبہ ہزار بار
جل ہی گیا فراق تو آتش سے ہجر کی
آنکھوں میں مری رہ نہ سکا یارو انتظار
برباد میری خاک ہوئی واں نہ لے گئی
دل میں مرے رہے گا صبا سے یہی غبار
ساغر تجھے قسم ہے سر خم کی جلد بھر
کرتا ہے دست گیر وگرنہ مجھے خمار
اس تنگ نائے دھر سے باہر قدم کو رکھ
ہے آسماں زمیں سے پرے وسعت مزار
مرہم لگا نہ داغ کو جراح مہر کر
یہ داغ تازہ میرے کسی کی ہیں یادگار
چلتا ہوں راہ عشق میں آنکھوں سے مثل اشک
پھوٹیں کہیں یہ آبلے سرسبز ہوویں خار
آتش سے گل کی داغ مگر عشقؔ کھائے تھے
آئی جو پیشوا تجھے لینے کو نو بہار
خواجہ رکن الدین عشق