MOJ E SUKHAN

کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظ

کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظ
کسی کو نہیں جب ہمارا لحاظ

مساوات اس چیز کا نام ہے
کہ اٹھ جائے چھوٹے بڑے کا لحاظ

لحاظ اس کا کچھ تم کو بھی چاہئے
کیا ہم نے کتنا تمہارا لحاظ

کسی کی کوئی بات سنتا نہیں
کسی کو نہیں اب کسی کا لحاظ

کھری بات کہنے کے عادی ہیں ہم
نہ بے جا مروت نہ بے جا لحاظ

جو انساں زمانے کے کام آئے گا
اسی کا کرے گا زمانہ لحاظ

نہ رتبہ نہ عہدہ نہ زر ہے نہ زور
کرے کون سرشارؔ تیرا لحاظ

جیمنی سرشار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم