MOJ E SUKHAN

کر کے سنگ غم ہستی کے حوالے مجھ کو

کر کے سنگ غم ہستی کے حوالے مجھ کو
آئینہ کہتا ہے اب دل میں چھپا لے مجھ کو

میں نہ دریا ہوں نہ ساحل نہ سفینہ نہ بھنور
داور غم کسی سانچے میں تو ڈھالے مجھ کو

اک تبسم کے عوض ہیچ نہیں جنس وفا
ہنس کے جو بات کرے اپنا بنا لے مجھ کو

اتنا بھرپور کہاں تھا مرے غم کا اظہار
اجنبی لگتے ہیں اب اپنے ہی نالے مجھ کو

میں وہ گل ہوں جو مہکتا ہے سر شاخ حیات
کیوں کوئی اپنے گریباں میں سجا لے مجھ کو

جانے کس دشت کے کانٹوں نے پکارا ہے جلیلؔ
لیے جاتے ہیں کہیں پاؤں کے چھالے مجھ کو

حسن جلیل اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم