MOJ E SUKHAN

کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیا

غزل

کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیا
اپنا سایہ تھا کڑی دھوپ میں خود تان لیا

بھیس بدلے تو بہت ہم نے ہوا کے ڈر سے
سنگ و دیوار نے ہر شہر میں پہچان لیا

لوگ خوابوں کے دریچوں میں چھپے بیٹھے ہیں
حاکم شہر نے ہر شخص کا ایمان لیا

نقد جاں کفر کی بستی میں چھپایا تو بہت
سنگ ساروں نے مگر دور سے پہچان لیا

سر میں سودا تھا نگاہوں کا سفر لمبا تھا
ہم نے اک شخص کو گھبرا کے خدا مان لیا

جو بھی سایہ ملا ہم چل پڑے پیچھے پیچھے
راستہ عشق میں ہم نے بہت آسان لیا

کوئی چہرے سے رقیبوں کے نہ سرکائے نقاب
بے وفا کون ہے کتنا ہے بہت جان لیا

کیلاش ماہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم