MOJ E SUKHAN

کسی تھکن کو سخن بنا لوں یہی بہت ہے

غزل

کسی تھکن کو سخن بنا لوں یہی بہت ہے
میں چند فرصت کے پل بچا لوں یہی بہت ہے

ہنر کا حق تو ہوا کی بستی میں کون دے گا
ادھر میں اپنا دیا جلا لوں یہی بہت ہے

یہ ہجر کے زخم بھی بڑے لالہ کار دل ہیں
میں گھر کے رنگوں سے گھر سجا لوں یہی بہت ہے

وہ عارفان سبق کہاں اب جو دل بڑھائیں
میں سچ لکھوں حرف کی دعا لوں یہی بہت ہے

تھمی نہ یلغار وقت کہتا ہی رہ گیا میں
ابھی میں اتنا ہی بوجھ اٹھا لوں یہی بہت ہے

محشر بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم