MOJ E SUKHAN

کسی دیار کسی دشت میں صبا لے چل

کسی دیار کسی دشت میں صبا لے چل
کہیں قیام نہ کر مجھ کو جا بہ جا لے چل

میں اپنی آنکھیں بھی رکھ آؤں اس کی چوکھٹ پر
یہ سارے خواب مرے اور رت جگا لے چل

میں اپنی راکھ اڑاؤں گا جل بجھوں گا وہیں
مجھے بھی اس کی گلی میں ذرا ہوا لے چل

ہتھیلیوں کی لکیروں میں اس کا چہرا ہے
یہ میرے ہاتھ لیے جا مری دعا لے چل

بدن کی خاک ان آنکھوں کی اک امانت ہے
قدم اٹھیں نہ اٹھیں زندگی سنبھالے چل

تسلیم الٰہی زلفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم