MOJ E SUKHAN

کسی طرح بھی کسی سے نہ دل لگانا تھا

غزل

کسی طرح بھی کسی سے نہ دل لگانا تھا
خیال یار میں دنیا کو بھول جانا تھا

جو بے رخی تھی یہی رخ نہیں چھپانا تھا
مرے خیال میں بھی آپ کو نہ آنا تھا

اسی سبب سے وہ پردے میں چھپ کے بیٹھے ہیں
کہ پردے پردے میں کچھ ان کو رنگ لانا تھا

ازل سے روح جو پھونکی گئی ہے ذروں میں
تو یہ سمجھ لو کہ جلوہ اسے دکھانا تھا

زمانہ کھنچ کے پہنچتا ہے اپنے مرکز پر
ضرور دائرۂ زندگی میں آنا تھا

بسمل الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم