MOJ E SUKHAN

کسی میں تاب الم نہیں ہے کسی میں سوز وفا نہیں ہے

کسی میں تاب الم نہیں ہے کسی میں سوز وفا نہیں ہے
سنائیں کس کو حکایت غم کہ کوئی درد آشنا نہیں ہے

ہم انقلاب فلک کے ہاتھوں بہت ستائے ہوئے ہیں یارب
یہ نالۂ بیکسی ہمارا شکایت ناروا نہیں ہے

ہجوم وارفتگی کے ہاتھوں جو جاں چلی تو کھلا یہ عقدہ
کہ تار و پود خیال دل بر سے رشتۂ جاں جدا نہیں ہے

کل اس بت با وفا سے مل کر جو اور بیتاب ہو گیا دل
ہوا یہ ظاہر کہ رنج و غم کی جہاں میں کوئی دوا نہیں ہے

یہی ہے اب آرزو تبسمؔ کہ دم نکل جائے آہ کرتے
کہ تاب اظہار الفت یار شیوۂ آشنا نہیں ہے

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم