MOJ E SUKHAN

کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے

غزل

کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے
اٹھا کے اگلے زمانے میں رکھ لیا ہے مجھے

وہ مجھ سے اپنے تحفظ کی بھیک لے کے گیا
اور اب اسی نے نشانے میں رکھ لیا ہے مجھے

میں کھیل ہار چکا ہوں تری شراکت میں
کہ تو نے مات کے خانے میں رکھ لیا ہے مجھے

مرے وجود کی شاید یہی حقیقت ہے
کہ اس نے اپنے فسانے میں رکھ لیا ہے مجھے

شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔ
ہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم