MOJ E SUKHAN

کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا

کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا
جسے پایا اسے بیگانہ پایا

کہاں ڈھونڈوں اسے کس طرح پاؤں
کوئ بھی ڈھونڈنے والا نہ پایا

اڑا کر آشیاں صرصر نے میرا
کیا صاف اس قدر تنکا نہ پایا

اسے پانا نہیں آساں کہ ہم نے
نہ جب تک آپ کو کھویا نہ پایا

دوائے درد دل پوچھوں میں کسی سے
طبیب عشق کو ڈھونڈا نہ پایا

ظفر دل جانے یا ہم ، کون جانے
کہ پایا آس میں کیا اور کیا نہ پایا​

بہادر شاہ ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم