MOJ E SUKHAN

کسی کی صدا نظم

کسی کی صدا

رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صدا
چاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئی

گونجتی بڑھتی لرزتی کوہساروں کے قریب
پھیلتی میداں میں پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئی

آ رہی ہے اس طرح جیسے کسی کی یاد آئے
نیند میں ڈوبی ہوئی پلکوں کو اکساتی ہوئی

آسمانوں میں زمیں کا گیت لہرانے لگا
چھا گیا ہے چاند کے چہرے پہ خفت کا غبار

بزم انجم کی ہر ایک تنویر دھندلی ہو گئی
رکھ دیا ناہید نے جھنجھلا کے ہاتھوں سے ستار

ذرہ ذرہ جھوم کر لینے لگا انگڑائیاں
کہکشاں تکنے لگی حیرت سے سوئے جوئبار

یوں فضاؤں میں رواں ہے یہ صدائے دلنشیں
ذہن شاعر میں ہو جیسے اک اچھوتا سا خیال

یا سحر کے سیم گوں رخسار پر پہلی کرن
سرخ ہونٹوں سے بچھائے جس طرح بوسوں کے جال

گاہ تھمتی گاہ سناٹے کا سینہ چیرتی
یوں فضا میں اٹھ کے ہو جاتی ہے مدھم ہائے ہائے

شام کی دھندلاہوہٹوں میں دور کوئی کارواں
کوہساروں سے اتر کر جیسے میدانوں میں آئے

ابنِ صفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم