MOJ E SUKHAN

کسی کے دل کو دُکھانا کمال ہے کہ نہیں

غزل

کسی کے دل کو دُکھانا کمال ہے کہ نہیں
تمھیں بھی اس کا ذرا سا ملال ہے کہ نہیں
ترس رہی ہیں نگاہیں یہ دیکھنے کے لیے
کہ تو بھی پہلے کے جیسا نڈھال ہے کہ نہیں
میں دے رہی ہوں تمھاری مثال دنیا کو
تمھارے پاس بھی میری مثال ہے کہ نہیں
خدا کا شکر کہ اس نے بھی مجھ سے پوچھ لیا
تمھارے دل میں کسی کا خیال ہے کہ نہیں
میں دیکھنے کو چلی آئی دفعتاً خاموش
عمود اس کے بھی لب پر سوال ہے کہ نہیں
عمود ابرار احمد
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم