کسی کے پاس کوئی دوسری مثال نہیں
یہ کائنات کسی ہاتھ کا کمال نہیں
ہم اہلِ مصر نہیں ہیں حضور سندھی ہیں
ہمارے قحط کی میعاد سات سال نہیں
ملنگ خود پہ ضرورت کا بوجھ لادے ہوئے
زمین پیٹ رہے ہیں کوئی دھمال نہیں
اٹھارہ سال سے بھوکی ہے اور پیاسی بھی
ہمارے دل میں اداسی کا کوئی حال نہیں
جنوب پشت پہ لادے ہوئے کھڑا ہوں مگر
عجب ہے اب بھی مرے سامنے شمال نہیں
ہمارے جسم عقیدت میں گوتمی ہیں ہمیں
ضرورتوں کے تصادم کا احتمال نہیں
ہم ایسے چند خرابوں کو دیکھ کر ساجد
کہا گیا تھا عناصر میں اعتدال نہیں
لطیف ساجد