MOJ E SUKHAN

کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتی

غزل

کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتی
نگاہ جلوۂ ارزاں کا رخ نہیں کرتی

بسی ہوئی ہے جو آبادیوں میں بربادی
جنوں کی موج بیاباں کا رخ نہیں کرتی

صبا کو فصل بہاراں سے کیا ملا آخر
وہ گل کھلے کہ گلستاں کا رخ نہیں کرتی

حصار وقت میں اپنا وجود ہے محبوس
اسیری اب رہ زنداں کا رخ نہیں کرتی

مرے عزیزوں میں رسوا مری رفاقت ہے
جبھی یہ حلقۂ یاراں کا رخ نہیں کرتی

فضا تو نور صداقت سے جگمگاتی ہے
یہ روشنی دل انساں کا رخ نہیں کرتی

وہ کچھ نہیں کوئی فرسودہ سی روایت ہے
وہ فکر جو نئے عنواں کا رخ نہیں کرتی

ہوا بھی کتنی زمانہ شناس ہے اے لیثؔ
ہر ایک صحن گلستاں کا رخ نہیں کرتی

لیث قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم