MOJ E SUKHAN

کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنے

کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنے
ہمارے نام کو بدنام کر گئے اپنے

اب ان کے نقش قدم راستوں میں کیا ڈھونڈیں
پرائی منزلوں کو ہم سفر گئے اپنے

بہار نے کیا منصوبہ حنا بندی
مناؤ جشن کہ سب زخم بھر گئے اپنے

پھر اس کے بعد فقط میں تھا میرا سایا تھا
جو دشت دشت تھے ہمراہ گھر گئے اپنے

جب ایک میر بھی ہم سایے میں مرے رویا
تو یہ گماں ہوا دیوار و در گئے اپنے

ہمیں عدو سے ہو محسنؔ گلہ تو کیوں کر ہو
ہمارے شہر کو ویران کر گئے اپنے

کس اعتماد سے الزام دھر گئے اپنے
ہمارے نام کو بدنام کر گئے اپنے

اب ان کے نقش قدم راستوں میں کیا ڈھونڈیں
پرائی منزلوں کو ہم سفر گئے اپنے

بہار نے کیا منصوبہ حنا بندی
مناؤ جشن کہ سب زخم بھر گئے اپنے

پھر اس کے بعد فقط میں تھا میرا سایا تھا
جو دشت دشت تھے ہمراہ گھر گئے اپنے

جب ایک میر بھی ہم سایے میں مرے رویا
تو یہ گماں ہوا دیوار و در گئے اپنے

ہمیں عدو سے ہو محسنؔ گلہ تو کیوں کر ہو
ہمارے شہر کو ویران کر گئے اپنے

محسن احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم