MOJ E SUKHAN

کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے

غزل

کس فکر کس خیال میں کھویا ہوا سا ہے
دل آج تیری یاد کو بھولا ہوا سا ہے

گلشن میں اس طرح سے کب آئی تھی فصل گل
ہر پھول اپنی شاخ سے ٹوٹا ہوا سا ہے

چل چل کے تھک گیا ہے کہ منزل نہیں کوئی
کیوں وقت ایک موڑ پہ ٹھہرا ہوا سا ہے

کیا حادثہ ہوا ہے جہاں میں کہ آج پھر
چہرہ ہر ایک شخص کا اترا ہوا سا ہے

نذرانہ تیرے حسن کو کیا دیں کہ اپنے پاس
لے دے کے ایک دل ہے سو ٹوٹا ہوا سا ہے

پہلے تھے جو بھی آج مگر کاروبار عشق
دنیا کے کاروبار سے ملتا ہوا سا ہے

لگتا ہے اس کی باتوں سے یہ شہریارؔ بھی
یاروں کے التفات کا مارا ہوا سا ہے

شہریار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم