MOJ E SUKHAN

کس قدر سادہ و معصوم نظر آتے ہیں

کس قدر سادہ و معصوم نظر آتے ہیں
ظلم کرکے بھی وہ مظلوم نظر آتے ہیں

جن کے ہاتھوں سے مرے قتل کا سامان ہوا
سب سے زیادہ وہی مغموم نظر آتے ہیں

منتخب کرکے بنایا جنھیں حاکم ہم نے
وہ کسی اور کے محکوم نظر آتے ہیں

جسم ملبوس ہیں مذہب کے لبادوں میں مگر
قلب ایمان سے محروم نظر آتے ہیں

اب وہ چہرے جو نگاہوں میں بسے رہتے تھے
یاد کرنے پہ بھی معدوم نظر آتے ہیں

تھےجو محلوں کے مکیں آج لحد کے ہیں اسیر
کل جو مغرور تھے مرحوم نظر آتے ہیں

علم ہے در پہ علی کے ہے علی علم کا در
یہ تو بس لازم و ملزوم نظر آتے ہیں

ہے مری ماں کی دعاؤں کا یہ اعجاز صبا ؔ
میرے الفاظ جو منظوم نظر آتے ہیں

صبا عالم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم