MOJ E SUKHAN

کس نے کہا کسی کا کہا تم کیا کرو

کس نے کہا کسی کا کہا تم کیا کرو
لیکن کہے کوئی تو کبھی سن لیا کرو

ہر آرزو فریب ہے ہر جستجو سراب
مچلے جو دل بہت اسے سمجھا دیا کرو

یوں چپ رہا کرے سے تو ہو جائے ہے جنوں
زخم نہاں کرید کے کچھ رو لیا کرو

ہاں شہر آرزو تھا کبھی یہ اجاڑ گھر
اب کھنڈروں سے اس کی کہانی سنا کرو

اس ناشنیدنی سے تو بہتر ہے چپ رہو
ہے کیا ضرور شکوۂ بے فائدہ کرو

اٹھ کر چلے گئے تو کبھی پھر نہ آئیں گے
پھر لاکھ تم بلاؤ صدائیں دیا کرو

نالے ابل رہے ہوں تو رستا بھی چاہئے
بلقیسؔ گاہے گاہے غزل کہہ لیا کرو

بلقیس ظفیر الحسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم