MOJ E SUKHAN

کس کس سے دوستی ہوئی یہ دھیان میں نہیں

کس کس سے دوستی ہوئی یہ دھیان میں نہیں
ان میں سے ایک بھی مرے سامان میں نہیں

رسم وفا کا اس سے نبھانا بھی ہے محال
ترک تعلقات بھی امکان میں نہیں

باندھیں کسی سے عہد وفا ہم تو کس طرح
اک تار بھی تو اپنے گریبان میں نہیں

کیوں ہم نے ہار مان لی کیوں ڈال دی سپر
یہ سانحہ شکست کے اعلان میں نہیں

یہ جاں سپردگی ہے اسی ایک بات پر
جو بات میرے عشق کے پیمان میں نہیں

شوریدگی کو ہیں سبھی آسودگی نصیب
وہ شہر میں ہے کیا جو بیابان میں نہیں

تشنہؔ وہ شب لکھی ہے ہمارے نصیب میں
جس کی سحر کا ذکر بھی امکان میں نہیں

عالم تاب تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم