MOJ E SUKHAN

کل اٹھ کے آئے تھے پتھر کے دیوتاؤں تک

غزل

کل اٹھ کے آئے تھے پتھر کے دیوتاؤں تک
اور آج پہنچے ہم الفاظ کے خداؤں تک

حدود جسم سے آگے بڑھے تو یہ دیکھا
کہ تشنگی تھی برہنہ تری اداؤں تک

سفینہ غرق ہوا ہے انہیں کا موجوں میں
کہ جن کے عزم کی قوت تھی ناخداؤں تک

یہ ہاتھ آہنی دیوار بھی گرا دیں گے
وہ لوگ بھاگ کے جائیں گے کن گپھاؤں تک

ہزار بار ہوئی تجھ سے منحرف دنیا
ہزار بار پھر آئی تری صداؤں تک

انہیں کو پہلے ملی آرزوؤں کی منزل
جو قافلے نہ پہنچ پائے رہنماؤں تک

عذاب جاں جنہیں سمجھا تھا ہم نے اے شوکتؔ
پلٹ کے آ گئے ہم پھر انہیں بلاؤں تک

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم