غزل
کل اٹھ کے آئے تھے پتھر کے دیوتاؤں تک
اور آج پہنچے ہم الفاظ کے خداؤں تک
حدود جسم سے آگے بڑھے تو یہ دیکھا
کہ تشنگی تھی برہنہ تری اداؤں تک
سفینہ غرق ہوا ہے انہیں کا موجوں میں
کہ جن کے عزم کی قوت تھی ناخداؤں تک
یہ ہاتھ آہنی دیوار بھی گرا دیں گے
وہ لوگ بھاگ کے جائیں گے کن گپھاؤں تک
ہزار بار ہوئی تجھ سے منحرف دنیا
ہزار بار پھر آئی تری صداؤں تک
انہیں کو پہلے ملی آرزوؤں کی منزل
جو قافلے نہ پہنچ پائے رہنماؤں تک
عذاب جاں جنہیں سمجھا تھا ہم نے اے شوکتؔ
پلٹ کے آ گئے ہم پھر انہیں بلاؤں تک
شوکت پردیسی