MOJ E SUKHAN

کل بھی جلے تھے دھوپ میں جلتے ہیں آج بھی

غزل

کل بھی جلے تھے دھوپ میں جلتے ہیں آج بھی
ہم لوگ سچ کی راہ پہ چلتے ہیں آج بھی

کل بھی مرا وجود تھا دشمن کو ناگوار
کچھ لوگ میرے نام سے جلتے ہیں آج بھی

حجرے دلوں کے کس لئے تاریک ہو گئے
تارے تو آسماں پہ نکلتے ہیں آج بھی

ان کی رفاقتوں پہ کریں کیسے اعتبار
رخ دیکھ کر ہوا کا بدلتے ہیں آج بھی

دشمن ملے تھے پہلے بھی اپنوں کے روپ میں
کچھ سانپ آستین میں پلتے ہیں آج بھی

انساں کے دکھ پہ آنکھ کیوں انساں کی نم نہیں
گو چشمے پتھروں سے ابلتے ہیں آج بھی

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم