MOJ E SUKHAN

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں
گھر میں اک بے حس خموشی کے سوا کچھ بھی نہیں

نام اک نایاب سا لکھا تھا وہ بھی مٹ گیا
اب ہتھیلی پر لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں

بے چھوئے اک لمس کا احساس اک خاموش بات
اس کے میرے بیچ آخر تھا بھی کیا کچھ بھی نہیں

دوستی کیسی وفا کیسی تکلف بر طرف
آپ کچھ بھی ہوں مگر کیا دوسرا کچھ بھی نہیں

دیکھنا یہ ہے کہ ملنے کس سے پہلے کون آئے
میرے گھر سے اس کے گھر کا فاصلہ کچھ بھی نہیں

بلقیس ظفیر الحسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم