MOJ E SUKHAN

کوئی بھی شخص پہلے کے جیسا نہیں رہا

غزل
کوئی بھی شخص پہلے کے جیسا نہیں رہا
اُس پر یہ ظُلم میں بھی وہاں کا نہیں رہا
اُس نے کہا کہ دیکھ مرے ہاتھ میں نصیب
مَیں نے کہا کہ وقت بُرا تھا نہیں رہا
اُس نے کہا کہ آنکھ کی حیرت بحال کر
مَیں نے کہا کہ آنکھ میں دریا نہیں رہا
اس نے کہا کہ جان سے پیارے نہیں رہے
میں نے کہا کہ شہر میں تجھ سا نہیں رہا
اس نے کہا میں جان سے گذری ترے بغیر
میں نے کہا کہ جاں پہ بھروسا نہیں رہا
اُس نے کہا مریضِ انا ہُوں مرے بغیر
شہرِ طِلسم میں کوئی اچھا نہیں رہا
؟کس نے کہا حضور محبت کی راہ میں
ہم سر نہیں رہا کوئی ہم سا نہیں رہا
دیکھا ہے غور سے تیرا دیوار و در ندیم
تصویر کا نشان جہاں تھا نہیں رہا
ندیم ملک
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم