MOJ E SUKHAN

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے
قیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے

منائیں انہیں وصل میں کس طرح ہم
یہ روٹھے کا کوئی منانا نہیں ہے

ہے منظور انہیں امتحاں شوق دل کا
نزاکت کا خالی بہانہ نہیں ہے

وفا پر دغا صلح میں دشمنی ہے
بھلائی کا ہرگز زمانہ نہیں ہے

شب غم بھی ہو جائے گی اک دن آخر
کبھی اک روش پر زمانا نہیں ہے

ہے کوئے بتاں بس گھر اس کا ہی کیفیؔ
زمانے میں جس کو ٹھکانا نہیں ہے

دتا تریہ کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم