MOJ E SUKHAN

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا

غزل

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا
اثر ہے یہ تری آنکھوں کی بے زبانی کا

کسی نے میری محبت کو کر لیا محفوظ
خیال آیا کسی کو تو پاسبانی کا

برائے نام سا پل بھی نہیں بنا مجھ سے
کہ کچھ علاج نہیں تھا تری روانی کا

ہمارے دل کا المناک دور ہے شاید
سمجھ رہے ہیں جسے کھیل سب جوانی کا

وہ داستان مکمل کرے تو اچھا ہے
مجھے ملا ہے ذرا سا سرا کہانی کا

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم